Masood InsightMasood Insight

الله کی خوشنودی کے لیے اپنا نفس کھپا دینے والے انسان

الله کی خوشنودی کے لیے اپنا نفس کھپا دینے والے انسان

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

انسانوں میں ہی سے کوئی ایسا بھی ہے جو الله کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنا نفس کھپا دیتا ہے اور الله اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ (207-2)

ایسے لوگوں کی خصوصیات کیا ہونی چاہئیں؟

رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر اطمینان سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اچھا صاحب ! سلامتی ہو۔ (63-25) اور وہ جو اپنے رب کے آگے سجدے کرکے اور کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں۔ (64-25) اور وہ جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم سے جَهَنَّم کا عذاب ٹال دے۔ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔ (65-25) وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔ (66-25) اور وہ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! عطا کر تو ہمیں ایسی بیویاں اور ایسی اولاد جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہو اور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔ (74-25) اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں بلکہ ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال کے ساتھ ہوتا ہے۔ (67-25) اور وہ جو الله کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتے ہیں جسے الله نے حرام کردیا ہے مگر حق کے مطابق اور نہ زنا کرتے ہیں۔ (68-25) اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور وہ جب بیہودہ کاموں کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار سے گزر جاتے ہیں۔ (72-25) اور وہ کہ جن کے سامنے رب کی آیات کا ذکر کیا جائے تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔ (73-25) جو بات کو غور سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو الله نے ہدایت دی ہے اور یہی أُوْلُوا الْأَلْبَاب ہیں۔ (18-39)

ایسے لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟

اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے لہٰذا تم صرف میری ہی عبادت کرو۔ (56-29) کہہ دو کہ اے بندو ! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ جنہوں نے اس دنیا میں احسن کام کیے ان کے لیے حَسَنَة ہے اور الله کی زمین بہت وسیع ہے۔ جنہوں نے صبر کیا ان لوگوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا۔ (10-39) کہہ دو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں الله کی عبادت اس کے دین کے مطابق مخلص ہوکر کروں۔ (11-39) اور یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے مسلمان ہوں۔ (12-39) کہہ دو کہ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ (13-39) کہہ دو کہ اے کافرو ! (1-109) میں نہیں عبادت کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو (2-109) اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ (3-109) اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو (4-109) اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔(5-109) تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔ (6-109) کہہ دو کہ میں تو اللہ کی عبادت اس کے دین کے مطابق مخلص ہوکر کرتا ہوں۔ (14-39) سو تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ کہہ دو کہ بلاشبہ خسارے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا۔ یہی الْخُسْرَانُ الْمُبِين ہے۔ (15-39) ان کے اوپر آگ کے سائبان چھائے ہوئے ہوں گے اور ان کے نیچے بھی سائبان ہوں گے۔ یہ ہے وہ جس سے اللہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے۔ اے میرے بندو ! مجھ سے ڈرتے رہو۔ (16-39) اور وہ لوگ جنہوں نے الطَّاغُوت کی عبادت کرنے سے اجتناب کیا اور الله کی طرف رجوع کیا ان کے لیے بشارت ہے۔ سو میرے بندوں کو بشارت سنا دو۔ (17-39) سو تم یکسو ہوکر اپنا رخ دینِ حنیفا کی سمت سیدھا رکھو جو الله کا دینِ فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ الله کی بنائی ہوئی فطرت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ یہی راست اور درست دین ہے لیکن اکثر انسان اس بات کو نہیں جانتے۔(30-30) الله وہ ہے کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے اور مومنوں کو الله پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ (13-64)

ایسے لوگوں کا حال و احوال کیا ہوتا ہے؟

وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب الله ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ خوف کرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ اس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (30-41) ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے سرپرست تھے اور آخرت میں بھی ہوں گے اور تمہیں وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا نفس چاہے گا اور تمہیں وہاں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ (31-41) یہ مہمان نوازی اس ہستی کی طرف سے ہوگی جو غفور اور رحیم ہے۔ (32-41) اور اس سے اچھی بات کس کی ہوگی جو الله کی طرف دعوت دے اور صالح عمل کرے اور کہے کہ میں یقینا” مسلمانوں میں سے ہوں۔ (33-41) وہ انتہائی گھبراہٹ میں بھی غمگین نہ ہوں گے اور ان کو فرشتے لینے آئیں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (103-21) یہ وہ لوگ ہیں جن کی فرشتے اس حالت میں جان نکالتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں۔ ان سے کہتے ہیں سَلامٌ عَلَيْكُم ! داخل ہو جاؤ جنّت میں ان اعمال کے بدلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔ (32-16) یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر کے بدلہ میں اونچے محل پائیں گے اور ان کا وہاں آداب و تسلیمات کے ساتھ استقبال کیا جائے گا۔ (75-25) اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی اچھی جگہ ہے۔ (76-25)

ایسے لوگوں کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟

میرے بندو ! آج کے دن تمہارے لیے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔ (68-43) تم وہ ہو جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور مسلمان بن کر رہے۔ (69-43) تم اور تمہاری بیویاں بھی جنّت میں داخل ہوجاؤ تمہیں خوش کردیا جائے گا۔(70-43) ان پر سونے کے تھال گردش کرائے جائیں گے اور پیالوں کا دور چلے گا اور وہاں وہ چیزیں ہوں گی جو نفس کو لذت دیتی ہیں اور آنکھوں کو بھاتی ہیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ (71-43) اور یہ وہ جنّت ہے جس کا تمہیں ان اعمال کے بدلے میں وارث بنایا گیا ہے جو تم کرتے رہے۔ (72-43)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *