
رزق کو نپا تُلا کیوں کیا جاتا ہے؟
الله اگر اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کردیتا تو وہ زمین میں بغاوت کرنے لگتے۔ لیکن وہ ایک حساب کے مطابق جتنا وہ چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے خَبِيرٌ بَصِير ہے۔ (27-42) جب ہم انسانوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس پر اتراتے ہیں اور اگر اُن کے کرتوتوں کی وجہ سے جو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں سے کیے ہوتے ہیں ان پر برائی اور مصیبت آتی ہے تو وہ مایوس ہو کر رہ جاتے ہیں۔ (36-30)
انسان کو جب اس کا رب آزماتا ہے تو اس کو عزت بخشتا ہے اور اس کو نعمتیں دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے بہت عزت بخشی ہے۔ (15-89) لیکن جب وہ اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کے لیے اس کے رزق کو نپا تُلا کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔ (16-89) ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیم کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے (17-89) اور نہ تم مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لیے مدعو کرتے ہو (18-89) اور تم میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو (19-89) اور تم مال سے جی بھر کر محبت کرتے ہو۔ (20-89)
وہی ہے جس نے پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور وہ بھی جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے باغات اور کھجور کے درخت اور زراعت جس سے مختلف قسم کی پیداوار ہوتی ہے اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور ملتے جلتے نہیں بھی ہیں۔ جب وہ پھل لائیں تو ان کے پھل کھاؤ اور الله کا حق بھی اسی دن اس میں سے ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو اور اسراف نہ کرو کہ الله اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (141-6) اور مویشیوں میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے ہیں اور کچھ کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں۔ اس میں سے کھاؤ جو رزق تم کو اللہ نے دیا اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (142-6)
الله ایک مثال دیتا ہے کہ ایک بندہ جو غلام ہے اور ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتا اور وہ شخص کہ اس کو ہم نے اپنی طرف سے رزق دیا ہو رِزْقًا حَسَنًا سو وہ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا ہو۔ تو کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ الله ہی کے لیے حمد ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔ (75-16) ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تم کو عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ اور اس میں سرکشی نہ کرنا ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ یقینا” ہلاک ہوگیا۔ (81-20)
الله ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے جو امن اور اطمینان سے رہتی تھی جسے اس کا رزق ہر جگہ سے خوب پہنچتا تھا پھر ان لوگوں نے الله کی نعمتوں سے کفر کیا تو الله نے اس کے سبب جو وہ کرتے تھے انہیں بھوک اور خوف کا مزہ چکھایا۔ (112-16) اور یقیناً ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا تو پھر اس بنا پر انہیں عذاب نے آپکڑا کہ وہ ظالم تھے۔ (113-16)
بیشک سبا کے لیے ان کی بستی میں ایک نشانی تھی دو باغ تھے دائیں جانب اور بائیں جانب۔ کھاؤ اس رزق میں سے جو تمہارے رب نے دیا ہے اور اس کا شکر ادا کرو۔ شہر پاکیزہ ہے اور رب غَفُور ہے۔(15-34) مگر وہ منہ موڑ گئے تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب بھیج دیا اور ہم نے ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں سے بدل دیا جن میں کڑوے کسیلے پھل تھے اور جھاؤ کے درخت اور چند بیری کی جھاڑیاں تھیں۔ (16-34) ہم نے ان کو یہ بدلہ ان کے کفر کی وجہ سے دیا تھا اور ہم سوائے کفر کرنے والوں کے سزا نہیں دیتے۔ (17-34) اور ہم نے انکے اور ان بستیوں کے درمیان جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی ایسی بستیاں بسا دی تھیں جو نمایاں نظر آتی تھیں اور ہم نے ان میں چلنے پھرنے کا اندازہ مقرر کردیا تھا۔ ان میں رات دن بےخوف و خطر چلو پھرو۔ (18-34) تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہمارے سفر کے درمیانی فاصلے لمبے کردے اور اس طرح انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تو ہم نے ان کو کہانیاں بنا کر رکھ دیا اور ہم نے ان کو ریزہ ریزہ کرکے منتشر کردیا۔ بیشک اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صابر اور شاکر ہو۔ (19-34)
Leave a Reply