
بے فیضے “سنگی” کولوں بہتر یار اکیلے
تاریخ: 24 نومبر 2025
انسان کی زندگی خواھشات اور توقعات کے گرد گھومتی رھتی ھے۔ خواھشات حسنات والی ھوں یا سیات والی ھوں۔ خواھشات ھوتی اپنی ھی ھیں اور ان خواھشات کی تکمیل میں “ساتھ” دینے کی توقع دوسروں سے ھوتی ھے۔
جس سے اپنی خواھشات کی تکمیل میں “ساتھ” دینے کی توقع کرلی جائے۔ اس سے “سنگت” ھونے لگتی ھے۔ البتہ “سنگت” میں کامیابی یا ناکامی کا ھونا توقع کے مطابق “ساتھ” دینے یا نہ دینے پر منحصر ھوتا ھے۔
جد سنگت چ سوبھ نصیب نہ ھووے
کیہڑا فیدا اے مڑ بھج نس دا
اس لیے جان پہچان کے بعد واسطے داری جب “سنگت” میں تبدیل ھونے لگے تو کم سے کم “ساتھی” والا ناطہ بننے کے امکانات ھونے چاھیئں۔
ذاتی معاملات یا گھریلو اور کاروباری مسائل سے منسلک حسنات یا سیات والی خواھشات میں “ساتھیوں” سے ھی “ساتھ” دینے کی توقعات ھوتی ھیں۔
اگر “ساتھ” نبھنے نبھانے کا طور طریقہ سمجھ آجائے تو “سجݨ” اور “بیلی” والا رشتہ بھی سمجھ آجاتا ھے۔ “سجݨ” اور “بیلی” کی بھی پہچان ھونے لگتی ھے۔ “سجݨ” اور “بیلی” کی اھمیت کا بھی اندازہ ھونے لگتا ھے۔ “سجݨ” سکھ دیتے ھیں اور “بیلی” دکھ سے بچاتے ھیں۔
چنگے سجݨ تے بخت خدا دیندا اے
ایہ کم نئیں کہیں دے وس دا
خواھشات حسنات والی ھوں یا سیات والی ھوں۔ خواھشات کی تکمیل سکھ دیتی ھے اور خواھشات کی تکمیل نہ ھونے سے دکھ ھوتا ھے۔
حسنات والی خواھشات کی تکمیل میں مدد “سجݨ” کرتے ھیں۔ جبکہ سیات والی خواھشات سے بچنے میں مدد “بیلی” فراھم کرتا ھے۔
“سجݨ” وہ ھوتا ھے جو حسنات والی خواھشات کی تکمیل میں مدد فراھم کرتا ھے۔
“بیلی” وہ ھوتا ھے جو سیات والی خواھشات سے بچنے میں مدد فراھم کرتا ھے۔
جان پہچان کے بعد واسطے داری اگر “سنگت” میں تبدیل ھونے کے بعد “ساتھی” والا ناطہ نہ بنا سکتی ھو تو بہتر ھے کہ؛ واسطے داری کو جان پہچان تک رکھا جائے۔
دنیا تے جو کم نہ آوے اوکھے سوکھے ویلے
اس بے فیضے سنگی کولوں بہتر یار اکیلے
(میاں محمد بخش)
Leave a Reply