
عمران خان کا انجام الطاف حسین پلس اور PTI کا مستقبل MQM پلس ھوگا۔
ڈاکٹر مسعود طارق
آزاد سیاسی محقق
کراچی ‘ پاکستان
drmasoodtariq@gmail.com
تاریخ: 31 مئی 2025
پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی پنجابیوں کی ھے۔ لیکن پاکستان کے بننے سے لیکر پنجابی صرف زراعت ‘ تجارت ‘ دکان داری ‘ سرکاری و نجی ملازمتوں ‘ ھنرمندی کے شعبوں اور مویشی پالنے و سنبھالنے تک محدود رھے۔
سیاست کا کھیل نہ پنجابی نے سکھیا اور نہ کھیلا۔ پاکستان میں سیاست کا کھیل اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر کھیلتے رھے۔ لہٰذا “سیاسی بیانیہ” بنانے کے ماھر بھی سب سے زیادہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر ھی رھے۔
چونکہ تعلیم ‘ صحت ‘ صنعت ‘ تجارت ‘ سیاست ‘ صحافت کی سہولتیں بڑے شھروں میں ھی ملتی ھیں۔ ملک کے بڑے شھروں میں رھنے والے ملک کی پالیسی بنایا کرتے ھیں۔ ملک کے بڑے شھروں کو کنٹرول کرنے کا مطلب ملک کو کنٹرول کرنا ھے۔ ملک کو کنٹرول کرنے کے لیے میڈیا کو کنٹرول کرنا اور جلسے جلوس کرنا ضروری ھے۔
پاکستان میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 20 لاکھ سے زیادہ آبادی والے 5 شہروں کی آبادی تھی؛
1۔ کراچی 14,916,456
2۔ لاھور 11,126,285
3۔ فیصل آباد 3,204,726
4۔ راولپنڈی 2,098,231
5۔ گوجرانوالہ 2,027,001
پاکستان میں 20 لاکھ سے زیادہ آبادی والے 5 شہروں کی آبادی 3 کروڑ 33 لاکھ تھی۔ اس میں سے؛
1۔ ایک کروڑ 50 لاکھ پنجابی تھے۔
2۔ ایک کروڑ اردو بولنے ھندوستانی تھے۔
3۔ 50 لاکھ سندھی ‘ بلوچ ‘ براھوئی و دیگر زبانیں بولنے والے تھے۔
4۔ 33 لاکھ پٹھان تھے۔
لہٰذا پاکستان کے قیام سے لیکر پاکستان کی سیاست کے پس پردہ کھلاڑی ‘ سیاسی بیانیہ بنانے ‘ انجمن سازی کرنے ‘ جلسے ‘ جلوس ‘ مظاھرے ‘ ھنگامے ‘ جلاؤ ‘ گھیراؤ ‘ دنگا ‘ فساد کرنے اور پاکستان کے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے ماھر ‘ پاکستان کے بڑے شھروں میں رھنے والے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر رھے ھیں۔
اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے 1969 میں سندھیوں پر سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی تسلط قائم رکھنے کے لیے ھندوستانی مھاجر نواب مظفر حسین کی قیادت میں سندھ میں رھنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پنجابیوں اور پٹھانوں کو متحد کرکے مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) قائم کرکے سندھیوں کے ساتھ محاذآرائی شروع کی تھی۔
مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) نے 1969 سے لیکر 1986 تک سندھ میں جلسوں ‘ جلوسوں ‘ مظاھروں ‘ ھنگاموں ‘ جلاؤ ‘ گھیراؤ ‘ دنگا ‘ فساد کے ذریعے سندھیوں کے ساتھ محاذآرائی جاری رکھی اور سندھ میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی بالادستی قائم رکھنے میں اھم کردار ادا کیا۔
اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے پنجابیوں اور پٹھانوں کے تعاون سے سندھ میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے بعد 1986 میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کی قیادت میں مھاجر قومی موومنٹ (MQM) بناکر سندھ کے پنجابیوں اور پٹھانوں کے ساتھ محاذآرائی شروع کردی۔ اس لیے سندھ میں قائم کیا گیا مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) غیر موثر ھوگیا۔
سندھ کے پنجابیوں اور پٹھانوں نے مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) کے غیر موثر ھونے کے بعد اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی MQM کی محاذآرائی کا مقابلہ کرنے کے لیے 1987 میں پنجابی پختون اتحاد (PPI) قائم کرکے سندھ کے شھری علاقوں میں MQM کی محاذآرائی کا بھرپور مقابلہ کرنا شروع کردیا۔
مھاجر قومی موومنٹ (MQM) کا نام بعد ازاں متحدہ قومی موومنٹ (MQM) کردیا گیا۔ لیکن MQM چونکہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ اس لیے اگست 2016 میں پاکستان دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے MQM پر پابندی عائد کردی گئی۔
اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے MQM پر پابندی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی سرپرستی کرنا شروع کردی۔ بلکہ پٹھان عمران خان کی قیادت میں پنجاب میں رھنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پٹھانوں اور بلوچوں کو متحرک کرکے پنجابیوں کے ساتھ محاذآرائی شروع کردی۔
پنجاب میں پنجابیوں پر سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی تسلط قائم کرنے کے لیے پنجاب میں اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ کے PTI کی سرپرستی کرنے کی وجہ سے؛
1۔ پنجاب میں رھنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پٹھانوں ‘ بلوچوں کی طرف سے 2016 سے جلسوں ‘ جلوسوں ‘ مظاھروں ‘ ھنگاموں ‘ جلاؤ ‘ گھیراؤ ‘ دنگا ‘ فساد کا سلسہ شروع ھو گیا۔
2۔ PTI جو کہ 1996 میں قائم ھوئی تھی۔ 20 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک پنجاب میں منظم نہیں ھو پا رھی تھی۔ لیکن 2016 سے بڑی تیزی کے ساتھ پنجاب میں منظم ھونے لگی۔
پنجاب کا سب سے بڑا شھر لاھور ھے۔ لاھور شھر کی 1951 میں آبادی 849,000 تھی اور اردو بولنے والے ھندوستانی 271,000 تھے۔ جو کہ لاھور شھر کی آبادی کا %36 تھے۔
لاھور شھر کی 1961 میں آبادی 1,320,000 تھی اور اردو بولنے والے ھندوستانی 474,000 تھے۔ جو کہ لاھور شھر کی آبادی کا %32 تھے۔
لاھور شھر کی 2017 میں آبادی 11,126,285 تھی اور اردو بولنے والے ھندوستانی 1,401,911 تھے۔ جو کہ لاھور شھر کی آبادی کا %12.6 تھے۔
لاھور کے اردو بولنے والے ھندوستانیوں کی لاھور کے سکولوں ‘ کالجوں ‘ یونیورسٹیوں ‘ اخبارات کے دفتروں ‘ میڈیا کے دفتروں ‘ سرکاری دفتروں ‘ بینکوں اور اسپتالوں میں بالادستی ھے۔
پاکستان کے قیام کے بعد یو پی ‘ سی پی سے آنے والی پوری مذھبی اور مسلکی یلغار کا مرکز لاھور کو بنایا گیا۔ ڈاکٹر اسرار کی تنظیم اسلامی ‘ مودودی کا منصورہ ‘ دیوبندی کا رائیونڈ ‘ اس کے علاوہ بریلوی مکتبہ فکر ‘ اھل حدیث ‘ لکھنوی شیعہ ازم ‘ سب کا مرکز لاھور ھی ھے۔
دوسری جانب مذھبی انتہا پسندی کی مخالفت کرنے والی ترقی پسند تحریکوں کا مرکز بھی لاھور ھی ھے۔ جنہوں نے بڑی چلاکی کے ساتھ ترقی پسندی کے نام پر اردو زبان کی پروموشن بڑھ چڑھ کر کی۔
مزید برآں پنجاب میں متعین یو۔ پی کے سرکردہ افسروں نے غیر رسمی سطح پر اپنی ایک ایسوسی ایشن بھی بنائی تھی جس کے اغراض ومقاصد یہ تھے کہ؛
1- پنجاب میں یو۔ پی کے چھوٹے بڑے ملازمین کے مفادات و حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
2- یو۔ پی کے مہاجرین کو اچھی سے اچھی اور زیادہ سے زیادہ متروکہ جائیدادیں الاٹ کی جائیں۔
3- یو۔ پی کے مہاجرین اور مشرقی پنجاب کی انبالہ ڈویژن کے ’’اھل زبان” مہاجرین کو لاھور شہر کے علاوہ ملتان ‘ منٹگمری ‘ جھنگ ‘ سرگودھا اور میانوالی کے اضلاع میں اس طرح آباد کیا جائے کہ “اھل زبان‘‘ سیاسی لیڈروں کے لیے پنجاب میں محفوظ حلقہ ھائے انتخاب بن جائیں۔
اس ایسوسی ایشن کا روح رواں یو۔ پی کا ایک ریٹائرڈ پی سی ایسں افسر سید احمد علی تھا۔ جسے گورنر موڈی کے عہد میں پنجاب کے ھوم سیکرٹری کے کلیدی عہدہ پر فائز کر دیا گیا تھا اور اس کے سرکردہ اور سرگرم ارکان میں اختر حسین ‘ ظفر الاحسن ‘ آئی ۔ یو ۔ خان اور سید سعید جعفری وغیرہ شامل تھے۔
پاکستان کے قیام کے بعد اترپردیش سے آنے والے اردو بولنے والے ھندوستانیوں نے سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی طور پر لاھور کو پوری طرح جکڑ لیا تھا۔ نتیجہ یہ ھوا کہ؛ لاھوریے “دولے شاہ کے چوھے” بن گئے۔ اس لیے سیاسی شعور سے عاری ھیں۔
مزید برآں ‘ سندھ میں 1969 سے سندھیوں کے ساتھ محاذآرائی چونکہ مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) کے پلیٹ فارم سے کی جا رھی تھی۔ اس لیے سندھیوں کو واضح طور پر سمجھ آرھا تھا کہ؛ سندھیوں کے ساتھ محاذآرائی سندھ میں رھنے والے مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان کر رھے ھیں۔
لیکن پنجاب میں 2016 سے پنجابیوں کے ساتھ محاذآرائی چونکہ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے پلیٹ فارم سے کی جا رھی تھی۔ اس لیے پنجابیوں کو واضح طور پر سمجھ نہیں آرھا تھا کہ؛ پنجابیوں کے ساتھ محاذآرائی پنجاب میں رھنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پٹھانوں اور بلوچوں کی طرف سے کی جا رھی ھے۔
پاکستان کی فوج اور سپریم کورٹ کے اداروں میں موجود ھندوستانی مھاجر اشرافیہ اور پٹھان اشرافیہ نے مفاد پرست اور سیاسی شعور سے عاری پنجابیوں کو ساتھ ملا کر 2018 میں جب پاکستان میں PTI کی حکومت بنائی تو پاکستان کا صدر ھندوستانی مھاجر ‘ پاکستان کا وزیر اعظم ‘ چیئرمین سینیٹ ‘ اسپیکر قومی اسمبلی پٹھان تھے۔ وفاقی کابینہ میں پٹھانوں اور ھندوستانی مھاجروں کی بھرمار تھی۔ جبکہ پنجاب کا وزیر اعلی بلوچ بنایا گیا تھا۔
اب پاکستان میں PMLN اور PPP کی حکومت ھے تو پاکستان کا صدر سندھی ‘ پاکستان کا وزیر اعظم ‘ چیئرمین سینیٹ ‘ اسپیکر قومی اسمبلی پنجابی ھیں۔ وفاقی کابینہ میں پنجابیوں کی بھرمار ھے۔ جبکہ پنجاب کی وزیر اعلی پنجابی ھے۔
لب لباب یہ ھے کہ اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ نے؛
1۔ سندھ میں 1969 میں سندھ میں رھنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پنجابیوں اور پٹھانوں کو مھاجر ‘ پنجابی ‘ پٹھان متحدہ محاذ (MPPM) کے پلیٹ فارم پر متحرک کرکے سندھیوں کے ساتھ محاذآرائی کروا کر ‘ سندھیوں میں سندھی قوم پرستی کو فروغ دلوا کر ‘ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں اور پٹھانوں کو برباد کروایا۔
2۔ پنجاب میں 2016 سے پنجاب میں رھنے والے ھندوستانی مھاجروں ‘ پٹھانوں اور بلوچوں کو پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے پلیٹ فارم پر متحرک کرکے پنجابیوں کے ساتھ محاذآرائی کروا کر ‘ پنجابیوں میں پنجابی قوم پرستی کو فروغ دلوا کر ‘ پنجاب میں رھنے والے پٹھانوں اور بلوچوں کو برباد کروا رھی ھے۔
پاکستان میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق اردو بولنے والوں کی کل آبادی 14,709,999 تھی جو کہ پاکستان کی 207,685,000 آبادی کا 7.08% بنتی تھی۔ اردو بولنے والوں کی آبادی تھی؛
1۔ پنجاب میں 5,356,464
2۔ کراچی میں 5,278,245
3۔ دیہی سندھ میں 3,431,356
4۔ کے پی کے میں 274,581
5۔ اسلام آباد میں 244,966
6۔ بلوچستان میں 99,913
7۔ فاٹا میں 24,465
کراچی ‘ لاھور ‘ راولپنڈی ‘ اسلام آباد اور بیرون ملک رھنے والی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ پاکستان کے قیام کے بعد؛
1۔ پہلے 1947 سے لیکر 1951 تک پاکستان کے وزیر اعظم اور مسلم لیگ کے صدر ھندوستانی مھاجر رھنما لیاقت علی خان کے پیروکار رھی۔
2۔ پھر 1951 سے لیکر 1986 تک جماعت اسلامی کے امیر اور ھندوستانی مھاجر رھنما ابوالاعلیٰ مودودی کے پیروکار رھی۔
3۔ پھر 1986 سے لیکر 2000 تک مھاجر قومی موومنٹ کے قائد اور ھندوستانی مھاجر رھنما الطاف حسین کے پیروکار رھی۔
4۔ پھر 2000 سے لیکر 2018 تک پاکستان کے آمر حکمران اور آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر ھندوستانی مھاجر رھنما پرویز مشرف کے پیروکار رھی۔
5۔ اب 2018 سے لیکر پہلی بار کسی غیر مھاجر کی پیروکار بنی ھے۔ بلکہ قیادت کے لیے کوئی ھندوستانی مھاجر رھنما دستیاب نہ ھونے کی وجہ سے پٹھان عمران خان کی سہولت کار بن کر پٹھان عمران خان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رھی ھے۔
جبکہ پاکستان کی وزارت اعظمٰی سے ھٹائے جانے کے بعد پٹھان عمران خان اسی طرح کی غلط فہمی میں مبتلا رھا۔ جس طرح کی غلط فہمی میں اگست 2016 میں MQM پر پابندی لگنے سے پہلے تک ھندوستانی مھاجر الطاف حسین مبتلا تھا۔ اس لیے پاک فوج کے جنرلوں کو دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ اسی طرح پٹھان عمران خان پاک فوج کے جنرلوں کو دھمکیاں دیتا رھا۔
ھندوستانی مھاجر الطاف حسین کو گمان تھا کہ؛ اس کے اشارے پر ھندوستانی مھاجر ‘ کراچی اور حیدرآباد میں فوجی اور سول اداروں کے دفاتر پر قبضہ کرکے اسٹیبلشمنٹ کو الطاف حسین کے احکامات ماننے پر مجبور کردیں گے۔ اس مشن پر عمل درآمد کروانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ میں موجود اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر درپردہ اپنا کردار ادا کریں گے۔
پٹھان عمران خان کو بھی گمان تھا کہ؛ اس کے اشارے پر پٹھان ‘ افغان اور طالبان ‘ اسلام آباد ‘ راولپنڈی ‘ لاھور ‘ پشاور ‘ کوئٹہ میں فوجی اور سول اداروں کے دفاتر پر قبضہ کرکے اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کے احکامات ماننے پر مجبور کردیں گے۔ اس مشن پر عمل درآمد کروانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ میں موجود پٹھان اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر درپردہ اپنا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی مقبولیت کی وجہ عمران خان اور PTI کو؛
1۔ پنجاب میں رھنے والی اور پنجابی بولنے والی پٹھان عوام
2۔ خیبر پختونخوا کے پختون علاقے کی پختون عوام
3۔ بلوچستان کے پشتون علاقے کی پشتون عوام
4۔ پنجاب کے بڑے بڑے شھروں اور کراچی و حیدرآباد میں رھنے والی ھندوستانی مھاجر عوام
کی اکثریت کی سیاسی سپورٹ جبکہ افغان اور طالبان کی پشت پناھی کا ھونا رھا۔
عمران خان پاک فوج کے ادارے کو کنٹرول کرکے پاکستان کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے 9 مئی 2023 کو خون خرابہ اور پاک فوج میں بغاوت کروانا چاھتا تھا۔ لیکن عمران خان پاک فوج کے ادارے کے ساتھ “سینگ” پھنسا کر اپنی “منجی” خود اپنے ھاتھوں “ٹھوک” چکا ھے۔
لہٰذا 9 مئی 2023 کو پاکستان کی فوج کے ٹھکانوں اور تنصیبات پر PTI کے رھنماؤں ‘ کارکنوں ‘ حامیوں اور ٹائیگرز کے حملوں کے ساتھ ساتھ پاک فوج میں بغاوت کی سازش کی وجہ سے عمران خان کا مستقبل تاریک ھی نہیں بلکہ خوفناک بھی ھو چکا ھے۔
اس وقت عمران خان دراصل الطاف حسین پلس اور PTI دراصل MQM پلس ھے۔ عمران خان اور پٹھان دراصل پاک فوج کو برباد اور پاکستان کو تباہ کرنے والے بیرونی ممالک کے آلہء کاروں کے ایجنڈے اور اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر اشرافیہ کے مہرے کے طور استعمال ھو رھے ھیں۔ تاکہ پاک فوج کو برباد اور پاکستان کو تباہ کیا جائے۔
عمران خان دراصل الطاف حسین پلس اور PTI دراصل MQM پلس ھے۔ لہذا عمران خان کا انجام بھی الطاف حسین پلس ھوگا اور PTI کا مستقبل بھی MQM پلس ھوگا۔ بلکہ ھونا شروع ھوگیا ھے۔
یکم مئی 2015 کی صبح DG ISPR میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے صرف 4 ٹوئیٹ کیے تھے اور 30 سال سے کراچی پر قابض MQM جھاگ کی طرح بیٹھنا شروع ھو گئی تھی۔
لہٰذا اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ھے کہ ریاستی ادارے جب ریاستی رٹ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیتے ھیں تو پھر؛ ریاستی اداروں سے ٹکر لینے والوں کا انجام کتنا عبرتناک ھوتا ھے؟
مصنف کا تعارف
ڈاکٹر مسعود طارق کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان اور سیاسی مفکر ھیں۔ وہ پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PMSF) سندھ کے سینئر نائب صدر ‘ میونسپل کارپوریشن حیدرآباد کے کونسلر ‘ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اور سندھ کابینہ کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ھیں۔
ان کی تحقیق جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست ‘ نوآبادیاتی دور کے بعد ریاستی تشکیل ‘ علاقائی قوم پرستی اور بین النسلی سیاست جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ھے۔ جن میں خاص توجہ پنجاب ‘ پنجابی اور سرد جنگ کی اسٹریٹجک سیاست پر مرکوز ھے۔
اس کے علاوہ ‘ وہ پاکستان کو درپیش سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی اور اقتصادی چیلنجز پر بھی لکھتے ھیں۔ جن کے ساختی اسباب کا تجزیہ کرتے ھوئے پالیسی پر مبنی حل تجویز کرتے ھیں۔ ان کا کام تاریخی تحقیق کے تجزیے سے عصری اسٹریٹجک اور طرز حکمرانی کو ھم آھنگ کرنے کی کوشش ھے۔
Leave a Reply