
تاریخ: 9 جون 2025
سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات میں مسائل کیا ھیں ‘ مسائل کی وجوھات کیا ھیں اور مسائل کا حل کیا ھے؟ اسے سیاست کہتے ھیں۔
سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات بارے کسی شخص کے خیالات کو عموماً اُس کے زاویۂ نظر ‘ نقطۂ نگاہ یا عالمی سوچ (ورلڈ ویو) سے تعبیر کیا جاتا ھے۔ یہ خیالات اُس کے تجربات ‘ علم ‘ اقدار اور عقائد سے تشکیل پاتے ھیں۔
یہ خیالات اس بات کا احاطہ کرتے ھیں کہ؛ ایک فرد دنیا کو کیسے دیکھتا اور سمجھتا ھے۔ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی معاملات پر اُس کی رائے کیا ھے۔ اُس کا مؤقف کیا ھے اور دوسروں سے اُس کا تعلق کس نوعیت کا ھے۔
اس مختصر تحریر میں ‘ میں اپنی ذاتی زندگی کے مختلف مراحل میں سیاسی سمجھ ‘ بصیرت اور شعور کے ارتقا کا تجربہ بیان کرنا چاھتا ھوں۔
طالب علمی کے دور میں ‘ میں دو مرتبہ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (MSF) سندھ کا سینئر نائب صدر منتخب ھوا۔ مقامی سیاست میں ‘ میں دو بار حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (Hyderabad Municipal Corporation)
کا کونسلر منتخب ھوا۔
صوبائی سطح پر 1993 سے 1996 تک میں وزیر اعلیٰ سندھ کا مشیر اور سندھ کابینہ کا رکن رھا۔ عملی سیاست کے بیس برس گزارنے کے بعد ‘ میں نے 5 مارچ 1996 کو اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے کر عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
اپنے سفر پر غور کرتے ھوئے:
1۔ طلباء سیاست کے دوران مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (MSF) سندھ کا سینئر نائب صدر ھوتے ھوئے مجھے بین الاقوامی یا قومی سطح کی سیاست کا تو کیا صوبائی سطح کی سیاست کا بھی ادراک نہیں ھوا کرتا تھا۔ میری سیاسی فہم و فراست طلباء سیاست کے علاوہ صرف حیدرآباد شھر کی مقامی سیاست سے آگاھی تک محدود تھی۔
2۔ مقامی سیاست کے دوران بلدیہ اعلی حیدرآباد (Hyderabad Municipal Corporation) کا کونسلر ھوتے ھوئے مجھے بین الاقوامی سطح کی سیاست کا تو کیا قومی سطح کی سیاست کا بھی ادراک نہیں ھوا کرتا تھا۔ میری سیاسی فہم و فراست حیدرآباد شھر کی مقامی سیاست کے علاوہ صرف سندھ کی صوبائی سیاست سے آگاھی تک محدود تھی۔ جبکہ طلباء سیاست کے تجربے نے حیدرآباد شھر کی مقامی سیاست میں میری فہم و فراست اور سندھ کی صوبائی سیاست سے میری آگاھی کے لیے آسانی پیدا کی تھی۔
3۔ صوبائی سیاست کے دوران وزیر اعلی سندھ کا مشیر اور سندھ کی صوبائی کابینہ کا رکن ھوتے ھوئے مجھے بین الاقوامی سطح کی سیاست کا تو ادراک نہیں ھوا کرتا تھا۔ میری سیاسی فہم و فراست سندھ کی صوبائی سیاست کے علاوہ صرف پاکستان کی قومی سیاست سے آگاھی تک محدود تھی۔ جبکہ طلباء اور مقامی سیاست کے تجربے نے سندھ کی صوبائی سیاست میں میری فہم و فراست اور قومی سیاست سے میری آگاھی کے لیے آسانی پیدا کی تھی۔
سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد گزشتہ 30 سال کا عرصہ اپنے رشتہ داروں اور محلہ داروں میں سے بچپن کے دوستوں جبکہ کالج اور یونیورسٹی کے دور میں سے جوانی کے ساتھیوں ‘ میں سے رابطے میں رھنے والوں کے ساتھ میل ملاقات کرنے ‘ قرآن پاک کے علوم کو سمجھنے ‘ روحانی علوم سے آگاھی حاصل کرنے ‘ ملکی و بین الاقوامی حالات و واقعات کا مشاھدہ کرنے میں گزر گیا۔
آج 68 برس کی عمر میں اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے مجھے دین ‘ روحانی علوم اور قومی و عالمی سیاسی امور کی بہتر سمجھ عطا ھوئی ھے۔ جو کہ طلباء سیاست ‘ مقامی سیاست ‘ صوبائی سیاست کے دوران مجھے حاصل نہیں تھی۔ اگر آپ بھی اپنی زندگی پر غور کریں تو اس وقت آپ کی سمجھ بوجھ ماضی کے مقابلے میں یقینا” بہتر ھوئی ھوگی۔
اخلاقی نکتہ: انسان کے خیالات کو معلومات ‘ شعور ‘ بصیرت اور حکمت کے درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ھے۔ لہٰذا ھر شخص کو؛
1۔ اپنا محاسبہ اور دوسروں کا اندازہ کرنا چاھیے کہ؛ معلومات ‘ شعور ‘ بصیرت اور حکمت کس سطح کی ھے۔
2۔ کسی بامقصد گفتگو میں مخاطب شخص کی فہم و فراست کی سطح کا لحاظ رکھنا چاھیے۔ گفتگو نہ تو اُس کی سمجھ بوجھ سے اوپر ھونی چاھیے اور نہ اُس سے کمتر ھونی چاھیے۔
Leave a Reply