
مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق
جو شخص دنیا کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو اس کو ہم دنیا میں سے دیتے ہیں اور جو شخص آخرت کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو اس کو ہم آخرت میں سے دیتے ہیں۔ (145-3) جو شخص دنیا کے فائدے کا ارادہ رکھتا ہو تو الله کے پاس تو دنیا کا فائدہ بھی ہے اور آخرت کا فائدہ بھی ہے اور الله سَمِيعًا بَصِير بھی ہے (134-4) اور یہ کہ نہیں ملتا انسان کو مگر وہی کچھ جس کے لیے وہ بھاگ دوڑ کرتا ہے (39-53) اور یہ کہ اس کی بھاگ دوڑ عنقریب اسے دکھائی جائے گی۔ (40-53) پھر اسے جزا دی جائے گی پوری پوری جزا۔ (41-53) جو شخص آخرت کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا اردہ رکھتا ہو تو اس کو ہم دنیا میں سے دیتے ہیں مگر اسکے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ (20-42) یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشہ ہے اور وہ آخرت کا گھر ہی بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ (32-6) واقعہ یہ ہے کہ ہم نے جو چیزیں زمین پر ہیں ان کو اس کے لیے زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے لحاظ سے کون أحْسَن عمل کرتا ہے۔ (7-18) اور دنیا کی زندگی سوائے دھوکے کے سامان کے کچھ نہیں ہے۔ (20-57)
خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور بناؤ سنگھار اور ایک کا دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد کے ذریعے ایک دوسرے کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ (20-57) یہ جو تمہیں چیزوں میں سے دیا گیا ہے یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ الله کے پاس ہے اس میں خَيْر بھی ہے اور قائم رہنے والا بھی ہے ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (36-42) اور ان کے لیے جو بڑے بڑے گناہوں اور فحش کاموں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آجائے تو وہ معاف کردیتے ہیں۔ (37-42) اور ان کے لیے جو اپنے رب کا حکم قبول کرتے ہیں اور صلاۃ قائم کرتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (38-42) اور ان کے لیے کہ جن کے ساتھ حق کے بغیر زیادتی کی جائے تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔ (39-42) اور سَيِّئَة کا بدلہ تو اسی کی طرح کی سَيِّئَة ہے لیکن جو معاف کردے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر الله کے ذمہ ہے۔ بلاشبہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ (40-42)
جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے تو ہم ان کو ان کے اعمال کا اسی دنیا میں پورا پورا بدلہ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ اس میں ذرا بھی کمی نہیں کی جاتی۔ (15-11) یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں ہے اور برباد ہوگیا وہ جو انہوں نے اس دنیا میں بنایا تھا اور ضائع ہو گیا وہ سب جو وہ کیا کرتے تھے۔ (16-11) جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔ (7-10) وہ کہ ضائع ہو گئی جن کی جدوجہد دنیا کی زندگی کے کاموں میں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ (104-18) یہ لوگ دنیا کی زندگی کا صرف ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں۔ (7-30) اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہوجائیں گے تو ہم رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے بنا دیتے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ (33-43) اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت بھی جن پر یہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں (34-43) سونے کے اور نہیں ہے یہ سب کچھ مگر صرف دنیا کی زندگی کا ساز و سامان اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقیوں کے لیے ہے۔ (35-43) مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بہتر ہیں۔ (46-18)
جو کوئی آخرت کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے لیے بھاگ دوڑ کرے جو بھاگ دوڑ ضروری ہے اور وہ مومن بھی ہو پس یہ لوگ ہیں کہ ان کی بھاگ دوڑ مقبول ہے۔ (19-17) جو شخص دنیا کے فائدے کا خواہشمند ہے تو ہم یہیں اسے جلدی دے دیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لیے ارادہ کرتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جَهَنَّم ٹھہرا رکھی ہے۔ وہ اس میں راندہء درگاہ ہوکر برے حال سے داخل ہوگا۔ (18-17) تم کو ان کے مال اور اولاد تعجب میں نہ ڈال دیں۔ دراصل الله کا ارادہ ہے کہ ان چیزوں سے ان کو دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جان ایسی حالت میں نکلے کہ وہ کافر ہی ہوں۔ (55-9) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ لہٰذا نہ تو ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ ان کو کوئی مدد ملے گی۔ (86-2) ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت زیادہ سخت ہوگا اور ان کو الله سے بچانے والا کوئی بھی نہیں ہوگا۔ (34-13) یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند کرلیا اور حق کا انکار کرنے والے لوگوں کو الله ہدایت نہیں دیتا۔ (107-16)
سو منہ پھیر لو اس شخص سے جو ہمارے ذکر سے منہ موڑتا ہے اور اس کا ارادہ صرف دنیا کی زندگی کا ہے۔ (29-53) یہی ہے انتہا اس کے علم کی۔ بیشک تیرا رب ہی ہے جو خوب جانتا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی خوب جانتا ہے اسے بھی جو سیدھے راستے پر ہے۔ (30-53) اور تم آنکھ اٹھاکر اس کی طرف نہ دیکھو جو ساز و سامان ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دیا ہے جو دنیا کی زندگی کی شان و شوکت ہے تاکہ ہم اس سے ان کی آزمائش کریں اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق خَيْر والا اور باقی رہنے والا ہے۔ (131-20) اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر کرواؤ جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے اور اس کے دیدار کے آرزو مند ہیں اور تم اپنی نظروں کو ان کی طرف سے اس غرض سے نہ ہٹاؤ کہ تم دنیا کی زندگی کی زینت پسند کرو اور اس کی بات مت مانو کہ ہم نے جس کے دل کو اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنے نفس کی خواہشوں کی پیروی کر رہا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے۔ (28-18)
Leave a Reply