
مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق
انسانوں ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس روشن دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف صاف راہ دکھانے والا نور نازل کیا ہے۔ (174-4) اور الله دَارِ السَّلاَم کی طرف دعوت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (25-10) سو وہ لوگ جو الله پر ایمان لائے اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور ان کی صِرَاطًا مُّسْتَقِيم کی طرف رہنمائی کرے گا۔ (175-4)
ہم ہی نے واضح آیات نازل کیں ہیں اور الله ہی جسے چاہتا ہے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (46-24) اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں اور ظلمات میں ہیں۔ الله جسے چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم پر چلا دے۔ (39-6) الله ایک مثال دیتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا ہے وہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے۔ وہ جدھر بھی اپنا چہرہ کرے تو کوئی خَيْر نہ لائے۔ کیا برابر ہوسکتا ہے یہ اور وہ جو عدل کرنے کا حکم دیتا ہو اور وہ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم پر ہو؟ (76-16)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ جس کے لیے ارادہ کرتا ہے کہ اسے ہدایت دے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کے لیے ارادہ کرتا ہے کہ اس کو گمراہ کرے تو اس کے سینہ کو تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا کہ وہ آسمان کی طرف جا رہا ہو۔ اس طرح الله ان لوگوں پر الرِّجْس مسلط کرتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ (125-6) اور یہ کہ صِرَاط تیرے رب کی مُّسْتَقِيم ہے۔
بلاشبہ ہم نے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کر دی ہیں ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ (126-6) ان کے لیے ان کے رب کے ہاں دَارِ السَّلاَم ہے اور وہی ان کا سرپرست ہے بسبب اس کے کہ جو عمل وہ کرتے ہیں۔ (127-6) بھلا وہ شخص جو اوندھی کھائی کی طرف چل رہا ہو اسکا چہرہ ہدایت پر ہے یا وہ جو صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم پر ساتھ ساتھ چل رہا ہو؟ (22-67)
اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں ہدایت نہیں کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے؟ (60-36) اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا۔ یہی صِرَاطٌ مُّسْتَقِيم ہے۔ (61-36) اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کیا ہے۔ کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (62-36)
بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی پھر تمہاری شکل و صورت بنائی پھر فرشتوں سے ہم نے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ تھا۔ (11-7) الله نے فرمایا کہ کس نے تجھے سجدہ کرنے سے منع کیا جبکہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟ اس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے تخلیق کیا اور اِسے مٹی سے تخلیق کیا۔ (12-7) الله نے فرمایا تو یہاں سے چلا جا اس لیے کہ تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں۔(13-7) اس نے کہا کہ مجھے يَوْمِ يُبْعَثُون تک مہلت دی جائے۔ (14-7) الله نے فرمایا کہ تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت دی گئی ہے۔ (15-7) ابلیس نے کہا چونکہ تونے مجھے دھتکارا ہے تو میں تیرے الْمُسْتَقِيم راستے پر ان کے لیے ضرور گھات لگاتا رہوں گا۔ (16-7) میں ضرور ان کے لیے زمین میں زیبائش پیدا کروں گا اور ان سب کو ضرور بہکاؤں گا۔ (39-15) سوائے تیرے ان بندوں کے جو الْمُخْلَصِين ہیں۔ (40-15) الله نے فرمایا کہ یہی ہے مجھ تک پہنچنے کا مُسْتَقِيم راستہ۔ (41-15)
کسی بشر کے لیے نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے سوائے وحی کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے سے یا وہ کوئی رسول بھیجتا ہے تا کہ اس کی اجازت سے وہ وحی کردے جو وہ چاہتا ہے۔ بیشک وہ عَلِيٌّ حَكِيم ہے۔ (51-42) اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف اپنی اجازت سے روح کے ذریعے وحی کی۔ تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنادیا ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک تم صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت پر ہو۔ (52-42) پس تم مضبوطی سے تھامے رہو جو تمہاری طرف وحی کیا گیا ہے۔ (43-43) اور یہ تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے نصیحت ہے اور جو تم پوچھا کرتے ہو اسکی وضاحت ہے۔ (44-43) اور ان سے پوچھ لو جنہیں ہم نے تم سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا؛ کیا ہم نے رحمٰن کے علاوہ دوسرے معبود بنائے ہیں کہ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں؟ (45-43)
جب فرشتوں نے کہا کہ اے مریم ! الله تم کو اپنی طرف سے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَم ہوگا جو دنیا میں اور آخرت میں وجاہت والا اور الْمُقَرَّبِين میں سے ہوگا (45-3) اور گہوارے میں بھی اور بڑی عمر میں بھی انسانوں سے گفتگو کرے گا اور الصَّالِحِين میں سے ہوگا۔ (46-3) مریم نے کہا کہ میرے رب ! میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا جبکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ کہا کہ الله اسی طرح خلق کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ (47-3) اور وہ اس کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دے گا۔ (48-3) اور بنی اسرائیل کی طرف رسول بناکر بھیجے گا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے سامنے مٹی میں سے پرندہ کی مانند مجسمہ بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ الله کی اجازت سے پرندہ بن جاتا ہے اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتا ہوں اور الله کی اجازت سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور تم کو بتا سکتا ہوں تم جو کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو۔ اگر تم مومنین میں سے ہو تو اس میں تمہارے لیے نشانی ہے۔ (49-3) اور جو پہلے سے تورات میں موجود ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کرتا ہوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔(50-3) بیشک الله ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو۔ یہی صِرَاطٌ مُّسْتَقِيم ہے۔ (51-3)
اے اہلِ کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو تمہارے لیے اس میں سے بہت کچھ بیان کرتا ہے جو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے۔ بیشک تمہارے پاس الله کی طرف سے نور اور كِتَابٌ مُّبِين آگئی ہے۔ (15-5) اس کے ذریعے سے الله اس کو ہدایت دیتا ہے جو سلامتی کی راہوں کے لیے اس کی رضا کی پیروی کرتا ہے اور ان کو اپنی اجازت سے ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور ان کو صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (16-5) وہ بلند درجوں والا اور عرش والا ہے۔ وہ اپنے امر میں سے روح کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اتارتا ہے تاکہ وہ پیشی کے دن سے متنبہ کرے۔ (15-40) جب عیسیٰ واضح دلیل لے کر آیا تو اس نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ بعض ان باتوں کی حقیت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو سو الله سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (63-43) بیشک الله ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے سو اسی کی عبادت کرو۔ یہی صِرَاطٌ مُّسْتَقِيم ہے۔ (64-43)
میں الله کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ (30-19) میں جہاں بھی ہوں اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں اس نے مجھےصلاۃ کا اور زکوٰۃ کا مشورہ دیا ہے (31-19) اور اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کروں اور اس نے مجھے جبر کرنے والا اور بدبخت نہیں بنایا۔ (32-19) سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔ (33-19) یہ ہے عِيسَى ابْنُ مَرْيَم کا وہ قول جو حق ہے جس کے بارے میں تم مبالغہ آرائی میں مبتلا ہو۔ (34-19) الله کے لیے نہیں ہے کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ (35-19) اور بیشک الله ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو۔ یہی صِرَاطٌ مُّسْتَقِيم ہے۔ (36-19)
جب مریم کے بیٹے کی مثال دی گئی تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے (57-43) اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ انہوں نے جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (58-43) وہ تو ہمارا ایسا بندہ تھا جن پر ہم نے انعام کیا تھا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے مثال بنایا تھا۔ (59-43) اگر ہم چاہتے تو تم میں سے زمین میں فرشتے بنا دیتے جو خلیفہ ہوتے۔ (60-43) اور یہ تو اس گھڑی کے علم کے لیے ہے۔ تم اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی صِرَاطٌ مُّسْتَقِيم ہے۔ (61-43)
ہم نے ہر اُمت کے لیے عبادت کا طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اس طریقہ سے عبادت کرتی ہے سو اس معاملے میں تم سے کوئی تنازعہ نہ کرے اور تم اپنے رب کی طرف دعوت دو۔ بےشک تم هُدًى مُّسْتَقِيم پر ہو۔ (67-22) انسانوں میں سے بیوقوف ضرور کہیں گے کہ ان کو ان کے اس قبلے سے کس نے پھیر دیا جس پر یہ تھے۔ کہو کہ مشرق اور مغرب الله ہی کا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (142-2) ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہء کار بنا دیا ہے۔ اگر الله چاہتا تو تم کو ایک ہی اُمّت بنا دیتا لیکن چونکہ اس نے جو تمہیں دیا ہے اس سے تمہاری آزمائش کرنی ہے سو الخَيْرَات میں سبقت لے جاؤ۔ تم سب کو الله کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو ان باتوں سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے۔ (48-5) اور اس طرح ہم نے تم کو معتدل امت بنا دیا تاکہ تم انسانوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہو مگر ہم نے تمہارے لیے یہ قبلہ بنایا ہے جس پر تم ہو تاکہ ہم معلوم کریں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور یہ بہت گراں تھا سوائے ان لوگوں کے جن کو الله نے ہدایت دی اور الله ایسا نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کردے۔ الله تو انسانوں کے لیے رَؤُوفٌ رَّحِيم ہے۔ (143-2)
ہم نے رسولوں میں سے جو بھیجے تو اس لیے کہ الله کی اجازت سے ان کی اطاعت کی جائے اور وہ لوگ جب اپنے نفسوں پر ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آجاتے اور الله سے بخشش مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتا تو وہ الله کو تَوَّابًا رَّحِيم پاتے۔ (64-4) سو تمہارے رب کی قسم یہ ایمان والے نہیں ہوسکتے جب تک اپنے درمیان تنازعات کے بارے میں تمہارے حکم کو مان نہ لیں پھر تم نے جو فیصلہ کیا ہو اس پر اپنے نفسوں میں کوئی حرج نہ پائیں اور اسے تسلیم کرلیں جیسا کہ تسلیم کرنا چاہیے۔(65-4) اور اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے نفسوں کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو سوائے ان میں سے تھوڑوں کے وہ ایسا فعل نہ کرتے اور اگر وہ ویسا فعل کرتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی تو وہ ان کے لیے خَيْر والا ہوتا اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا۔ (66-4) اور ہم ان کو اپنے ہاں سے عظیم اجر بھی عطا کرتے (67-4) اور ہم ان کو صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا کی طرف ہدایت دیتے۔ (68-4)
کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی بات آئی ہے جو ان کے پہلے آباؤ اجداد کے پاس نہیں آئی تھی؟ (68-23) یا یہ اپنے رسول کو پہچانتے نہیں ہیں اس لیے یہ کافر ہیں۔ (69-23) یا یہ کہتے ہیں کہ اس کے پاس جِنّات ہیں؟ نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرتی ہے۔ (70-23) اگر حق ان کے نفس کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگے تو فساد برپا ہوجائے آسمانوں میں اور زمین میں اور ان میں جو ان کے درمیان ہے۔ نہیں بلکہ ہم ان کے پاس ان کے لیے نصیحت لائے ہیں اور وہ اپنی ہی نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں۔ (71-23) کیا تم ان سے کوئی معاوضہ مانگتے ہو حالانکہ تمہارے رب کا معاوضہ خَيْر والا ہے اور وہ خَيْرُ الرَّازِقِين ہے۔ (72-23) اور تم تو ان کو صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف بلاتے ہو۔ (73-23)
قرآن الْحَكِيم کی قسم۔ (2-36) تم رسولوں میں سے ہو۔ (3-36) صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم پر ہو۔ (4-36) ہم نے تجھے فتح دی۔ فتح بھی صریح و صاف (1-48) تاکہ الله تمہاری اگلی اور پچھلی کوتاہیوں کو بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا کی ہدایت دے۔ (2-48) الله نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا تھا جن کو تم حاصل کرو گے سو اس نے فوری طور پر تمہیں یہ دے دی اور انسانوں کے ہاتھ تم سے روک دیے تاکہ مومنوں کے لیے یہ ایک نشانی بن جائے اور تم کو صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا کی ہدایت دے۔ (20-48)
ہم نے تم میں پہلے بھی رسول اور نبی بھیجے مگر جب وہ کوئی تمنا کرتے تو شیطان ان کی تمناؤں میں کچھ ڈال دیتا۔ پھر جو کچھ شیطان ڈالتا الله اس کو مٹا دیتا رہا۔ پھر الله اپنی آیات کو مضبوط کردیتا رہا اور الله عَلِيمٌ حَكِيم ہے۔ (52-22) یہ اس لیے ہے تاکہ شیطان آزمائش میں ڈالے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ بیشک الظَّالِمِين مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ (53-22) اور وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا تھا انہیں معلوم ہوجائے کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے پھر وہ اس پر ایمان لے آئیں سو ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں اور یقینا” اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (54-22)
بیشک ابراہیم ایک امت اور یکسو ہوکر الله کا فرمانبردار تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ (120-16) اس کی نعمتوں کا شکر گزار تھا۔ اسے منتخب کرلیا تھا اور اسے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دی تھی (121-16) اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب دیے۔ سب کو ہدایت دی اور ان سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور اسی کی نسل میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور ہم اسی طرح الْمُحْسِنِين کو جزا دیتے ہیں۔ (84-6) اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو۔ یہ سب الصَّالِحِين میں سے تھے۔ (85-6) اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو اور سب کو ہم نے الْعَالَمِين پر فضلیت دی (86-6) اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی نسل اور ان کے بھائیوں میں سے اور ان کو منتخب کیا اور ان کو صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دی۔ (87-6)
ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ ہود نے کہا کہ اے میری قوم ! الله کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تم محض جھوٹ گھڑنے والے ہو۔ (50-11) اے میری قوم ! میں تم سے اس کا اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (51-11) اے میری قوم ! اپنے رب سے بخشش مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا اور مجرم بن کر منہ مت موڑو۔ (52-11) انہوں نے کہا کہ اے ہود ! تم ہمارے پاس کوئی واضح دلیل نہیں لائے اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ (53-11) ہم تو کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تم کو خرابی میں مبتلا کردیا ہے۔ ہود نے کہا کہ میں الله کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو (54-11) اس کے سوا۔ سو تم سب مل کر میرے بارے میں چالبازی کرلو اور مجھے مہلت نہ دو۔ (55-11) میں الله پر توکل کرتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ جو بھی چلنے پھرنے والوں میں سے ہے وہ اس کو اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑے ہوئے ہے۔ بیشک میرا رب صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم پر ہے۔ (56-11) اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کیے (114-37) اور ان کو اور ان کی قوم کو عظیم مصیبت سے نجات دلائی (115-37) اور ان کی مدد کی تو وہ غالب ہوگئے (116-37) اور ان کو ہر بات واضح کرنے والی ایک کتاب دی (117-37) اور انہیں صِرَاطَ مُّسْتَقِيم کی ہدایت دی۔ (118-37)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان میں سے بعض لوگوں کا کہا مانو گے جنہیں کتاب دی گئی ہے تو وہ تم کو بعد تمہارے ایمان لانے کے کافر بنا کر پھیر دیں گے۔ (100-3) بھلا تم کیسے کفر اختیار کرسکتے ہو جبکہ تم تو وہ ہو کہ تمہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے اور جس نے الله کو مضبوطی سے تھام لیا تو وہ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت پاگیا۔ (101-3) اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو احسن ہو حتیٰ کہ وہ جوانی کی بلاغت کو پہنچ جائے اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو۔ ہم کسی نفس پر اس کی طاقت کے مطابق ہی ذمہ داری کا بوجھ ڈالتے ہیں اور جب بات کہو تو عدل کی کہو اگرچہ وہ تمہارا قربت والا ہی ہو اور الله کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا تم کو مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ تم نصحیت حاصل کرو۔ (152-6) یہی ہے وہ صِرَاطِي مُسْتَقِيم سو اسی کی پیروی کرو اور دوسری راہوں کی پیروی نہ کرو کہ وہ تم کو اس کی راہ سے الگ کردیں گی۔ ان باتوں کا تم کو مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ (153-6)
کہو کہ مجھے میرے رب نے صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم کی طرف ہدایت دی ہے جو دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ہے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (161-6) کہو کہ میری صلاۃ اور میری قربانی اور میری حیاتی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو رَبِّ الْعَالَمِين ہے۔ (162-6) الله ہی کے لیے حمد ہے جو رَبِّ الْعَالَمِين ہے (1-1) الرَّحْمـن ہے الرَّحِيم ہے (2-1) يَوْمِ الدِّين کا مالک ہے۔ (3-1) تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ (4-1) دکھا ہم کو الصِّرَاطَ المُستَقِيم۔ (5-1) الصِّرَاط ان لوگوں کی جن پر تو نے نعمتیں کیں۔ (6-1) نہ وہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ گمراہ لوگوں کی۔ (7-1)
Leave a Reply