
مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے ہتھیار سنبھالو پھر دستہ دستہ نکلو یا سب اکٹھے نکلو۔ (71-4) اور بیشک تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضرور پیچھے رہ جاتا ہے۔ پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتا ہے کہ بیشک الله نے مجھ پر انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ شہید نہ ہوا (72-4) اور اگر تم کو الله کا فضل پہنچتا ہے تو وہ تم سے کہتا ہے کہ کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان دوستی نہ تھی؟ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا۔ (73-4) سو چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کریں جو آخرت کے عوض دنیا کی زندگی فروخت کرچکے ہیں اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر وہ مارا جائے یا وہ غالب آجائے تو ہم اسے اجرِ عظیم دیں گے (74-4) اور تم کو کیا ہوا ہے کہ تم الله کی راہ میں ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو ہمیں اس بستی سے نکال کہ جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور تو ہمارے لیے اپنی طرف سے کسی کو ہمارا سرپرست بنا اور تو ہمارے لیے اپنی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار بنا۔ (75-4) وہ لوگ جو ایمان والے ہیں وہ الله کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور وہ لوگ جو کافر ہیں وہ الطَّاغُوت کی راہ میں جنگ کرتے ہیں سو تم شیطان کے ساتھیوں سے جنگ کرو۔ بیشک شیطان کی چالبازی کمزور ہوتی ہے۔ (76-4)
موسٰی جب اپنی جوانی کی بلاغت کو پہنچا اور اس کی نشو و نما مکمل ہوگئی تو ہم نے اسے حُكْمًا وَعِلْمًا عطا کیا اور الْمُحْسِنِين کو ہم ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ (14-28) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جب وہاں کے باشندے غافل تھے تو اس نے وہاں دو اشخاص کو دیکھا جو آپس میں لڑ رہے تھے ایک اس کی قوم کا تھا اور دوسرا اُس کے دشمنوں میں سے تھا۔ سو اس نے مدد طلب کی جو اُس کی قوم کا تھا اس کے مقابلے میں جو اس کا دشمن تھا تو موسیٰ نے اسے گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔ موسیٰ نے کہا کہ؛ یہ شیطان کے عمل میں سے ہے۔ بیشک شیطان دشمن ہے اور صریح گمراہ کرنے والا ہے۔ (15-28) اس نے کہا اے میرے رب ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے تو مجھے معاف کردے سو اس کو معاف کردیا۔ وہ الْغَفُورُ الرَّحِيم ہے۔ (16-28) موسیٰ نے کہا کہ؛ اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھ پر نعمتیں کی ہیں لہٰذا میں مجرم لوگوں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ (17-28)
بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا تھا اور انہوں نے کہا کہ الله ہی کے لیے حمد ہے جس نے اپنے بہت سے الْمُؤْمِنِين بندوں پر ہمیں فضلیت دی۔ (15-27) اور داؤد کا وارث سلیمان بنا اور کہا کہ اے انسانوں ! ہمیں پرندوں کی بولیوں کا علم سکھایا گیا ہے اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ بےشک یہ الْفَضْلُ الْمُبِين ہے۔ (16-27) اور سلیمان کے لیے جِنّوں اور انسانوں اور پرندوں میں سے اس کے تمام لشکر جمع کیے گئے پھر ان کی درجہ بندی کی گئی۔ (17-27) حتیٰ کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے مسٰاکن میں داخل ہو جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں محسوس بھی نہ ہو۔ (18-27) تو وہ اس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں ان نعمتوں کا جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور میں ایسے صالح عمل کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے الصَّالِحِين بندوں میں داخل فرما۔ (19-27)
الله ہی کے لیے حمد ہے جو رَبِّ الْعَالَمِين ہے (1-1) الرَّحْمـن ہے الرَّحِيم ہے (2-1) يَوْمِ الدِّين کا مالک ہے۔ (3-1) تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ (4-1) دکھا ہم کو سیدھا راستہ۔ (5-1) راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے نعمتیں کیں۔ (6-1) نہ وہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ گمراہ لوگوں کا۔ (7-1)
جس نے الله کی اور رسول کی اطاعت کی تو وہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے انبیاء اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین میں سے اور یہ لوگ رفیق کے طور پر بہت اچھے ہیں۔ نبیوں میں سے یہ وہ لوگ ہیں کہ الله نے ان پر انعام کیا جو آدم کی نسل میں سے تھے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا اور ابراہیم اور اسرائیل کی نسل میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب انکے سامنے رحمٰن کی آیات پڑھی جاتی تھیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے۔ (58-19)
Leave a Reply