Masood InsightMasood Insight

گمراہ لوگ (الضَّالِّين)

مُؤَلِّف : ڈاکٹر مسعود طارق

ان کو ابراہیم کی خبر سناؤ۔ (69-26) جب اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ؛ تم کس کو پوجتے ہو؟ (70-26) انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور انہی کی سیوا میں لگے رہتے ہیں۔ (71-26) اس نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا تمہاری سنتے ہیں؟ (72-26) یا تم کو نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟ (73-26) انہوں نے کہا کہ نہیں ! بلکہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسا ہی فعل کرتے پایا ہے۔ (74-26) اس نے کہا کہ تم نے ان میں کیا دیکھا جن کو تم پوجتے ہو؟ (75-26) تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے جو گزر گئے؟(76-26) وہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رَبَّ الْعَالَمِين کے (77-26) جس نے مجھے خلق کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت دیتا ہے (78-26) اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے (79-26) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے (80-26) اور وہی مجھے موت دے گا پھر زندہ کرے گا (81-26) اور وہی ہے جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ يَوْمَ الدِّين کو میری خطائیں بخش دے گا۔ (82-26) اے میرے رب ! مجھے حکمت عطا فرما اور الصَّالِحِين میں شامل کر (83-26) اور بعد والوں میں مجھے سچائی کی زبان بنادے (84-26) اور مجھے جَنَّةِ النَّعِيم کے وارثوں میں سے بنادے (85-26) اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ الضَّالِّين میں سے ہے۔ (86-26)

ابراہیم نے جب اپنے باپ آزر سے کہا کہ؛ کیا تم بتوں کو اپنا معبود بناتے ہو؟ میں تمہیں اور تمہاری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ (74-6) اس طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں کا اور زمین کا نظامِ سلطنت دکھانے لگے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔ (75-6) چنانچہ جب اس پر رات چھا گئی تو اس نے ایک تارا دیکھا۔ اس نے کہا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا کہ ڈوب جانے والوں کو میں پسند نہیں کرتا۔ (76-6) پھر جب اس نے چمکتا ہوا چاند دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا تو اس نے کہا کہ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہیں دے گا تو میں الضَّالِّين میں شامل ہوجاؤں گا۔ (77-6) پھر جب اس نے سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو اس نے کہا کہ یہ میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو اس نے کہا کہ اے میری قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو۔ (78-6) میں نے یکسو ہوکر اپنا چہرہ اس کی طرف کرلیا ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا بنانے والا ہے اور میں الْمُشْرِكِين میں سے نہیں ہوں۔ (79-6) جب اس کی قوم اس سے بحث کرنے لگی تو اس نے کہا کہ؛ کیا تم مجھ سے الله کے بارے میں بحث کرتے ہو؟ جب کہ وہ مجھے ہدایت دے چکا ہے اور میں ان سے خوف نہیں کرتا جن کو تم اس کا شریک ٹھہراتے ہو سوائے اس کے کہ میرا رب کچھ چاہے۔ میرے رب نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ کیا تم غور نہیں کرتے؟ (80-6) اور کیوں میں ان سے خوف کروں جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو جبکہ تم اس بات سے خوف نہیں کرتے کہ تم اللہ کا ان کو شریک ٹھہراتے ہو جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریقوں میں سے امن کے لیے کون زیادہ مستحق ہے۔ اگر تم کو علم ہے؟ (81-6) وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (82-6)

جب تیرے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ الْقَوْمَ الظَّالِمِين کے پاس جاؤ (10-26) فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا وہ ڈریں گے نہیں؟ (11-26) اس نے کہا کہ؛ اے میرے رب ! مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ (12-26) اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے سو ہارون کی طرف رسالت بھیج دے۔ (13-26) اور میرے اوپر ان کا ایک جرم بھی ہے سو مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ (14-26) رب نے کہا کہ؛ ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ تم دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ- میں تمہارے ساتھ رہ کر سب کچھ سنتا رہوں گا۔ (15-26) ہاں! تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہنا کہ ہم رَبِّ الْعَالَمِين کے رسول ہیں۔ (16-26) تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ (17-26) فرعون نے کہا کہ؛ کیا ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا نہیں تھا جب تو بچہ تھا اور تو اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں رہا تھا (18-26) اور فعل کیا اور وہ تیرا فعل تھا جو فعل کیا اور تو الْكَافِرِين میں سے ہے۔ (19-26) موسیٰ نے کہا کہ؛ میں نے وہ فعل اس وقت کیا تھا جب میں الضَّالِّين میں سے تھا۔ (20-26) پھر جب مجھے تم سے خوف ہوا تو میں تمہارے پاس سے بھاگ گیا تھا۔ پھر مجھے میرے رب نے حکمت عطا کی اور مجھے رسولوں میں شامل کرلیا۔ (21-26) اور تو جو احسان مجھ پر جتا رہا ہے وہ اس لیے ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ (22-26) فرعون نے کہا کہ؛ یہ رَبُّ الْعَالَمِين کیا ہے؟ (23-26) موسیٰ نے کہا کہ؛ وہی جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان کے درمیان میں ہے۔ اگر تم یقین کرنے والوں میں سے ہو۔ (24-26) فرعون نے ان لوگوں سے جو اس کے ارد گرد تھے کہا کہ؛ کیا نہیں سنا تم لوگوں نے؟ (25-26) موسیٰ نے کہا کہ؛ تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب جو گزر گئے۔ (26-26) فرعون نے کہا کہ؛ تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے۔ (27-26) موسیٰ نے کہا کہ؛ وہی رب ہے مشرق کا اور مغرب کا اور جو ان کے درمیان میں ہے۔ اگر تم عقل والے ہو۔ (28-26)

سو تم اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرو۔ (74-56) پس میں تاروں کی منزلوں کی قسم کھاتا ہوں (75-56) اور اگر تم کو علم ہے تو یہ ایک عظیم قسم ہے۔ (76-56) یہ قرآن كَرِيم ہے۔ (77-56) جو كِتَابٍ مَّكْنُون میں ہے۔ (78-56) اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔ (79-56) رَبِّ الْعَالَمِين کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ (80-56) کیا پھر تم اس کلام کے ساتھ بے پروائی برتتے ہو؟ (81-56) اور تم اس کو جھٹلا کر اپنا رزق لیتے ہو۔ (82-56) کوئی وجہ نہیں جب حلق تک پہنچ جاتی ہے (83-56) اور تم اس کو دیکھ رہے ہوتے ہو (84-56) اور ہم تم سے اس کی نسبت قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں ہو۔ (85-56) پس اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو (86-56) تو اس کو لوٹا کیوں نہیں دیتے اگر تم صادق ہو؟ (87-56) پھر اگر وہ مقربوں میں سے ہوتا ہے (88-56) تو راحت اور خوشبودار پھول اور جَنَّةُ نَعِيم ہیں۔ (89-56) اور اگر وہ أَصْحَابِ الْيَمِين میں سے ہے (90-56) تو تم پر سلام ہو تم أَصْحَابِ الْيَمِين میں سے ہو۔(91-56) اور اگر وہ جھٹلانے والے الضَّالِّين میں سے ہے (92-56) تو کھولتے پانی سے ضیافت ہے (93-56) اور اس کو جَهَنَّم میں داخل کیا جانا ہے۔ (94-56) یہ حَقُّ الْيَقِين ہے۔ (95-56) تو تم اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کرو۔ (96-56)

الله ہی کے لیے حمد ہے جو رَبِّ الْعَالَمِين ہے (1-1) الرَّحْمـن ہے الرَّحِيم ہے (2-1) يَوْمِ الدِّين کا مالک ہے۔ (3-1) تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ (4-1) دکھا ہم کو سیدھا راستہ۔ (5-1) راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے نعمتیں کیں۔ (6-1) نہ وہ جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ الضَّالِّين کا۔ (7-1)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *